ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سنگھو بارڈر پر کسانوں کا احتجاج اور مفت میڈیکل کیمپوں سے فائدہ اٹھانے پہنچے آس پاس کے دیہاتی

سنگھو بارڈر پر کسانوں کا احتجاج اور مفت میڈیکل کیمپوں سے فائدہ اٹھانے پہنچے آس پاس کے دیہاتی

Tue, 08 Dec 2020 21:14:51    S.O. News Service

نئی دہلی، 8 دسمبر (آئی این ایس انڈیا) سنگھو بارڈر پر مرکز کے تین نئے زرعی کالے قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کے لئے لگائے گئے طبی کیمپوں میں قریبی دیہات کے لوگ بھی مفت علاج کے لئے آ رہے ہیں۔ کونڈلی گاؤں کا بابلی بھی اپنے دو بچوں کے ساتھ یہاں پہنچا۔ انہوں نے کہاکہ میری بڑی بیٹی (12) کو زکام اور کھانسی ہے اور دوسری بیٹی ساکشی (8) بہت کمزور ہے، میرے پڑوسی نے مجھے یہاں آنے کا مشورہ دیا۔پچھلے دنوں ان کے گاؤں کے بہت سے لوگ مفت علاج کے لئے احتجاج کرنے والے  مقام پر آئے ہیں۔ ببلی نے کہاکہ ڈاکٹر نے ہمیں کھانسی کا شربت اور کچھ دوسری دوائیں دیں۔ انہوں نے میری چھوٹی بیٹی کی بھی جانچ کی اور اس کے لئے ’آئرن‘ اور ’کیلشیم‘ کی گولیاں دی۔

علی پور کے بھیم سنگھ اپنے بوڑھے والد منگت سنگھ کے ساتھ یہاں پہنچے، جنھیں گھٹنوں میں شدید درد تھا۔ بھیم سنگھ نے کہاکہ میرے والد کے گھٹنے میں بہت تکلیف ہے اور سردیوں میں اس کے پاؤں بھی سوجن ہے، ہم نے کسی سے مفت میڈیکل کیمپ کے بارے میں سنا اور یہاں آئے، ہم مہنگے علاج کے متحمل نہیں۔کولکاتہ میں مقیم ایک این جی او ’میڈیکل سروس سینٹر‘ کے ڈاکٹر انشومن دوسترا کے مطابق، 12 طبی کیمپ موجود ہیں، جو چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں۔ ڈاکٹر مترا نے بتایا کہ ان کے کیمپ کے ڈاکٹر، نرسیں اور دیگر طبی معاون عملہ روزانہ 200 مریض دیکھتے ہیں، ان میں 30 فیصد قریبی دیہاتوں کے غریب خاندانوں سے ہیں۔ ڈاکٹر مرید سرکار نے کہاکہ زیادہ تر لوگ کھانسی، نزلہ، پیٹ میں درد، جلد اور آنکھوں میں انفیکشن، الرجی اور جسمانی کمزوری کی شکایات لے کر آتے ہیں۔


Share: